شریک غالب
معنی
١ - چھایا ہوا، حاوی، جس کا حصہ زیادہ ہو۔ "ذات کے چھوٹے موٹے المیہ میں ہی گم رہنے کا رجحان . اب بھی باقی تھے لیکن یہ عناصر اب شریک غالب نہیں تھے۔" ( ١٩٧٤ء، اثبات و نفی، ١٣٦ )
اشتقاق
عربی زبان سے ماخوذ اسم 'شریک' کے ساتھ کسرہ صفت لگا کر عربی اسم 'غالب' لگانے سے مرکب توصیفی بنا۔ اردو زبان میں بطور صفت استعمال ہوتا ہے۔ ١٨٨٦ء کو "دیوانِ سخن" میں تحریراً مستعمل ملتا ہے۔
مثالیں
١ - چھایا ہوا، حاوی، جس کا حصہ زیادہ ہو۔ "ذات کے چھوٹے موٹے المیہ میں ہی گم رہنے کا رجحان . اب بھی باقی تھے لیکن یہ عناصر اب شریک غالب نہیں تھے۔" ( ١٩٧٤ء، اثبات و نفی، ١٣٦ )